سطح مسجد پر نماز
سوال
مکرمی ومحترمی حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم خیریت مزاج گرامی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته گزارش خدمت گرامی اینکہ میں نے گذشتہ سال جمادی الاولی کے ماہ میں ایک استفتاء بسلسلہ صلواة على سقف المسجد ارسال خدمت کیا تھا اور حضرت مفتی عبدالرحمن صاحب کا فتوی بھی ساتھ ہی ارسال کیا تھا جس میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کا فتوی بھی درج تھا انجناب نے ان حضرات کے فتاوی کی تردید بایں الفاظ کر دی کہ قہستانی اور غرائب کے حوالہ کو رد کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ ان سے زیادہ معتبر کتاب میں اس کے خلاف کوئی جزئیہ ہو اگر علامہ شامی کے…
جواب
مسجد کی چھت پر چڑھنا اور گرمی کی شدت میں وہاں جماعت کرنا قہستانی اور غرائب میں مکروہ لکھا ہے، اور اس کراہیت کو شامی اور عالمگیری میں نقل کیا ہے نہ تغلیط کی ہے اور نہ تضعیف، قہستانی اور غرائب پر فتوی دینے کو شرح عقود رسم المفتی علامہ شامی نے ناجائز لکھا ہے جب تک ماخذ پر اطلاع نہ ہو فتاوی عالمگیری اور در مختار میں یہ مسئلہ نقل بھی کیا ہے، جو قرینہ ہے کہ صاحب رد المختار اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔