ایک مسجد کی جماعت چھوڑ کر دوسری مسجد میں جانا ٹھیک نہیں
سوال
کسی مسجد میں زید وضو کر رہا تھا کہ ادھر جماعت کی رکعتیں ہو گئیں، یا صرف قعدہ اخیرہ ہی ملنے کی امید ہے، تو زید نے سمجھا کہ اچھا ہے چلو کسی دوسری مسجد میں نماز پڑھ لیں جہاں پوری جماعت ملنے کی امید ہے۔ تو ایسی صورت میں ایک مسجد سے دوسری مسجد کی طرف انتقال جائز ہے یا نہیں؟
جواب
زید کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ اس مسجد کا حق قائم ہوگیا وہیں جماعت میں شریک ہو جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔