نماز کے بعد داہنی یا بائیں طرف رُخ کرنا
سوال
ایک مقامی مسجد جس میں دس سال سے تبلیغی مرکز ہے، اور ہفتہ واری اجتماع ہوتا ہے، اجتماع کے ایک روز جمعہ کی نماز میں مقرر امام کے نہ آنے کی وجہ سے ایک اجنبی شخص نے امامت کی، بعد سلام تسبیح اور دعاء کے لئے بجائے داہنی طرف مڑنے کے یہ خیال کرتے ہوئے کہ بائیں طرف مڑنا سنت ہے اور عام طور پر کرتے بھی نہیں ہیں، بائیں جانب مڑ کر تسبیح پڑھی اور دعاء کے بعد فراغت عوام میں چہ میگوئیاں ہوئیں کہ یہ نیا طریقہ اس نے کہاں سے نکالا، چند روز بعد بعض مخلص سمجھدار معاونین و کارکنان جماعت نے اس دن فجر کے وقت امام صاحب کو اپنی مخلصانہ رائے…
جواب
داہنی طرف رخ کرنے سے اصل امام یا کوئی بھی اس کا نائب گنہ گار نہیں، جب دونوں ہی سنت ہیں داہنی طرف رخ کرنا بھی بائیں طرف رخ کرنا بھی تو کسی ایک طریقہ پر عمل کرنے سے ترک سنت نہیں ہوگا، اسکے شواہد شریعت میں بے شمار ہیں، لیکن کسی ایک طریقہ کو لازم قرار دینا جس سے یہ مفہوم ہوتا ہو کہ دوسرا سنت سے ثابت شدہ طریقہ غلط اور خلاف شرع ہے جائز نہیں، مشکوۃ ص ۸۷ / سے ظاہر ہے کہ حضرت رسول…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔