الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز کے بعد رُخ کس طرف کرے

سوال

وضو کند بر همان نماز بنا کند اگر منفرد باشد واز سرنو نماز خواندن أفضل است واگر امام باشد خلیفه گیرد وضو کند وداخل مقتدیان شود، ومقتدی وضو کرده باز آید بمکان که آنجا بود (۱) سوال یہ ہے کہ نماز پڑھنے والے امام مقتدی اور منفرد تین قسم کے لوگ ہیں، پہلے ایک حکم ہے در نماز حدث لاحق شود وضو کند، پھر امام اور منفرد و مقتدی کے لئے الگ الگ حالتیں بیان کی گئیں، اس عبارت کا صحیح حمل کیا ہے؟ (۲)

جواب

منفرد کے لئے اس صورت میں استیناف أفضل ہے، اس کا اپنا تنہا کا معاملہ ہے امام کے لئے خلیفہ بنا دینا أفضل ہے، اس کے پیچھے دوسرے لوگ بھی ہیں، ان سب کی نماز بھی اس کیساتھ وابستہ ہے اسکو خلیفہ بنادینا أفضل ہے تا کہ وقت حدث تک جتنی نماز پڑھ چکے ہیں وہ خراب اور بیکار نہ ہوتے انکو استیناف (از سرے نو پڑھنا اور پڑھی ہوئی کو بیکار قراردینا) شاق ہوگا بنا میں یہ بات نہ ہوگی۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو