پیشہ ور پھرائی کو مؤذن بنانا
سوال
پیشہ ور پھرائی کی اذان جبکہ وہ ڈھولک اور سارنگی کے ساتھ مانگتا ہو اور ساتھ ہی غیر اللہ کے نام کا کھانا پینا بھی بلا تکلف کھاتا پیتا ہو، نرمی اور گرمی کے ساتھ منع کرنے کے باوجود بھی اپنے اس کام سے باز نہ آتا ہو کیسی ہے؟
جواب
اس شخص کو مؤذن نہ بنایا جائے، اس کی اذان مکروہ ہے، ڈھولک سارنگی وغیرہ لیکر مستقلاً مانگنے کا پیشہ کرنے والے اور غیر اللہ کے نام کی نذر وغیرہ کھانے والے بھی اس میں شامل ہیں، یعنی ان کی اذان بھی مکروہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔