الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

داڑھی منڈے کی اذان

سوال

جس طرح سے جناب نے شرح عقود کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے، قرآن خوانی کے مسئلہ کے تحت کہ اب جو لوگ معترض تھے، ان کی بولتی بند ہے، اسی طریقہ سے جو شخص داڑھی منڈاتا ہے، یا خلاف سنت رکھتا ہے، اس کی اذان مکروہ ہے، اس کا اعادہ ضروری ہے، اگر اس کا حوالہ تحریر فرما دیں تو کم علم معترض کے لئے سکوت کا باعث ہوگا؟

جواب

” يحرم على الرجل قطع لحيته الخ در مختار واما الأخذ منها وهي دون ذالك اى دون (القبضة كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه احد الخ واخذ كلها كما يفعل يهود الهند ومجوس الاعاجم قبيح، در مختار ويكره اذان فاسق لأن خبره لا يقبل فى الديانات (مراقی الفلاح)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو