نابالغ کی اذان اور بلوغ کی حد شرعی
سوال
نابالغ لڑکے کی اذان کا کیا حکم ہے؟ بلوغ کی حد شرعی کیا ہے؟
جواب
اگر لڑکا سمجھدار ہے تو اس کی اذان صحیح ہے لیکن بالغ کی أفضل ہے۔ اگر نا سمجھ ہے اور اس نے اذان دی ہے تو وہ صحیح نہیں دوبارہ اذان دی جائے۔ شامی ص ۲۶۳ ج ۱ جب لڑکے کو احتلام وإنزال ہونے لگے تو سمجھو کہ وہ بالغ ہو گیا ورنہ پندرہ سال کی عمر ہو جانے پر شرعا بالغ قرار دیا جائے گا۔ (شامی ص ۹۷ ج ۵)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔