قرآن کریم بواسطه جبرئیل آیا اور تو راه بلا واسطہ
سوال
جناب مفتی صاحب الحمد اللہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف کو نہایت عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں اور اسی پر ہمارا عمل ہے لیکن بعض مرتبہ غور کرنے سے ایسی باتیں ذہن میں آتی ہیں جو غور طلب ہوتی ہے۔ لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز آپ کے سامنے پیش کروں تا کہ آپ کی صحیح رائے اس مسئلہ میں معلوم ہو سکے۔ مسئلہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے جلیل القدر پیغمبر نازل فرمائے۔
جواب
تو رات کتاب بصورت الواح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی جیسے کسی شخص کو کسی جگہ کا ذمہ دار بنایا جائے اور ایک ہدایت نامہ لکھ کر کے اس کے حوالہ کر دیا جائے کہ اسکے موافق عمل کرتے رہنا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر عمل کیا اور امت کو اس پر عمل کی دعوت دی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔