بھتیجہ کی بیوی سے نکاح
سوال
دو بھائی سگے ہیں۔ بندہ اور کمالو جس میں سے بندہ کا انتقال ہو گیا ہے اور بندہ کی عورت سے کمالو کا نکاح ہو گیا ہے اور بندہ کے ایک لڑکا تھا اور اسکا بیاہ ہو گیا تھا۔ جس میں اسکی عورت اس سے رضامند نہیں ہے۔ کمالو سے رضامند ہے اور لڑکا میرے نہیں ہے اس کی عورت مجھ کو چاہتی ہے اور میرے بھتیجے کو نہیں چاہتی اور چار دفعہ وہ بھاگ چکی ہے۔اس کے ساتھ میرا نکاح جائز ہے یا نہیں۔ فقط
جواب
اگر آپ کا بھتیجہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور عدت گذر جائے، نیز کوئی اور بھی مانع نہ ہوتو شرعاً آپ کا اس بھتیجہ کی بیوی سے نکاح درست ہے۔ بغیر طلاق کے اس سے آپ کا نکاح درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔