تعصب کی بنیاد پر امام کے پیچھے عید نہ پڑھنا
سوال
عید الاضحیٰ کی نماز کے موقع پر جب امام مصلی پر چڑھا تو آدھے آدمیوں نے کہا ہم اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے، دوسرے آدھے آدمیوں نے کہا کہ ہم تمہارے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے، غرضیکہ دو جماعتیں ہوگئیں، اور دو جگہ نماز ہوئی، تو بتلائیے اس طرح سے نماز ہوگی یا نہیں؟ یا ایسے موقع پر کون سی صورت اختیار کی جائے؟
جواب
نماز تو دونوں قسم کے آدمیوں کی ہوگئی لیکن ایسا طریقہ اختیار کرنا بلا وجہ شرعی محض تعصب کی بنا پر کسی شخص کی امامت پر اعتراض کر کے علیحدہ علیحدہ جماعت کرنا شرعاً واخلاقاً ہر طرح مذموم اور قابل نفرت حرکت ہے، اس سے پورا پرہیز ضروری ہے، مسلمانوں کو لازم ہے کہ آپس کے ذاتی اختلافات کو ختم کر کے ایک ایسے شخص کو امام تجویز کر لیں جو صحیح العقیدہ مسائل امامت و نماز سے واقف متبع سنت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔