عیدین کے موقع پر مسجد میں چندہ کرنا
سوال
عید کے دن عید گاہ کے اندر بعد نماز عصر امام کیلئے چندہ کرتے ہیں محض اسکے نماز پڑھا نیکی وجہ سے، کیا یہ چندہ کرنا درست ہے؟ جب کہ وہ امید بھی یہی کرتا ہے کہ مجھے یہ چندہ ضرور ملے گا، نیز مسجد کے اندر کسی قسم کا چندہ کرنا کیسا ہے، خواہ عید ہو یا جمعہ یا عام نماز، نیز جمعہ کے بعد بھی اور پنکھے وغیرہ کیلئے چندہ کرتے ہیں، ایسا کرنا کیسا ہے؟ نیز مدرسہ کے سفیر وغیرہ بھی مسجد میں نماز کے بعد چندہ کا ذکر کرتے ہیں، ایسا کرنا از روئے شرع کیسا ہے؟
جواب
اگر سال بھر بھی نماز پڑھاتے ہیں تو عید کے موقع پر ان کو چندہ کر کے دیدینا بھی درست ہے اور اس مقصد کیلئے عید گاہ میں چندہ کرنا بھی درست ہے، مگر خطبہ کے وقت چندہ نہ کیا جائے، خطبہ کا سننا واجب ہے اس میں خلل نہ آئے مسجد میں مسجد و مدرسہ یا اور دینی ضرورت کیلئے چندہ درست ہے لیکن کسی کی نماز میں تشویش نہ ہو اس کا لحاظ ضروری ہے، نیز شور وشغب سے پرہیز لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔