عیدین میں جھولی پھرانا اور اس رقم سے امام ومؤذن کی تنخواہ
سوال
ایک مسجد ہے اسکی آمدنی کا خاص ذریعہ نہیں ہے جس سے اس مسجد کے اخراجات پورے نہیں ہوتے، لہذا مسجد کی جو کمیٹی ہے انہیں اراکین کمیٹی کی اجازت سے عیدین کے موقعہ پر صفوں میں مقتدیوں کے سامنے رومال یعنی جھولی پھرائی جاتی ہے، جتنا جس سے ہوتا ہے لوگ اس میں پیسہ ڈالتے ہیں پیسہ دینے والوں میں جائز کاروبار والے اور ناجائز کاروبار والے سب لوگ ہوتے ہیں، وہ پیسہ اکٹھا کر کے بصورت مدد کے مسجد کے امام اور موذن اور خادم کو دیا جاتا ہے تو کیا امام اور موذن اور خادم وغیرہ کی مدد کیلئے اراکین کمیٹی کی اجازت سے عیدین کے موقع پر صفوں کے…
جواب
اگر یہ چندہ کرنے والے نمازیوں کی گردنوں پر پھلاند کر نہ گزریں تو اس طرح نماز عید سے قبل چندہ کرنا درست ہے جس سے امام اور موذن کی تنخواہ ادا کی جاسکتی ہے، عمدہ صورت یہ ہے کہ با حیثیت آدمی مستقل تنخواہ کا انتظام کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔