الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پرچہ پر دعا لکھ کر میت کے سینہ پر رکھنا / ۲۱ مارچ ۹۶ھ: محترم قبلہ مفتی اعظم دارالعلوم دیو بند

سوال

بعد آداب کے گزارش ہے کہ میں نے ایک پر چہ لکھا ہے اس پر چہ کو لفافہ میں بھیج رہا ہوں اور چند باتیں میرے قصبہ میں مجھ کونئی معلوم ہوتی ہیں اس وجہ سے میں نے اپنے بزرگوں کو تکلیف دی ہے، جس کی معافی چاہتا ہوں ہمارے قصبہ کھیری میں میت کو قبر میں اتارتے ہیں اور مردے کے جسم پر یعنی سینہ پر یہ پرچہ رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ منکر نکیر قبر میں حساب نہیں کر سکتے اور نہ مردے کو قبر میں منکر نکیر دکھلائی پڑیں گے، اور اس کو حدیث سے ثابت کرتے ہیں اور علمائے دیو بند کو بھی اس کا ایجاد کردہ بتلاتے ہیں، اس سے بہت خلفشار قصبہ میں…

جواب

مطبوعہ پر چہ میں جو دعائے ثانی ہے اس کا تو شامی (ردالمختار) میں وجود ہی نہیں ہے، یہ تو بالکل غلط ہے اور جھوٹ ہے البتہ لا اله الا الله والله اكبر الخ موجود ہے، لیکن اول تو اس میں یہ نہیں کہ اس کو حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے لہذا یہ نسبت کرنا پہلے جھوٹ سے بڑھ کر جھوٹ ہے، اس لئے کہ اس میں شامی پر جھوٹ ہے اور حکیم ترمذی پر جھوٹ ہے اور سب سے بڑھ کر حضرت رسول مقبول…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو