کفن کے کپڑوں کی تعداد
سوال
میت مرد کا کفن مسنون شرعاً کیا ہے؟ فقہ کی کتب عامہ میں قمیص ازار، لفافہ کی تصریح ہے، اب بعض اہلِ علم فرمارہے ہیں، کہ قمیص کے اوپر کپڑے کی حاجت ہے تا کہ ستر علی وجہ الکمال ہو، اور اپنے اس قول کیلئے حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہی اور حضرت مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی کا قول دلیل میں پیش کرتے ہیں اس سے تجاوز کرنا کہاں تک صحیح ہے؟ فقط
جواب
فقہ کی کتابوں میں تین کپڑوں کی تصریح ہے وہی صحیح ہے، جن دو بزرگوں کا قول اس کے خلاف نئے کپڑے کیلئے پیش کیا جا رہا ہے، وہ قول میرے علم میں نہیں: وَيُسَنُّ فِي الكَفْنِ لَهُ ازار وقميص ولفافة اهـ (درمختار ص: ۵۷۸، ج:۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔