الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غسل میت کے بعد جو کپڑا استر عورت کیلئے ڈالا جائے کیا وہ جز وکفن ہے؟

سوال

مردہ کو غسل دینے کے بعد ایک تہبند پہناتے ہیں، وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ عام طور سے ہوتا ہے لنگی کو کفن میں شمار کر کے بغیر کسی عذر کے قمیص اور لفافہ پر اکتفاء کیا جا سکتا ہے یا ازار بھی دینا ہوگا، اگر اس لنگی کو کفن میں نہ شمار کیا جائے بلکہ اس کے علاوہ تین کپڑے دیئے جائیں، تو اس لنگی کو جو غسل دیتے وقت پہنائی گئی تھی نکال دینا بہتر ہے، یا اس کا رہنے دینا بہتر ہے، اولویت کے اعتبار سے جواب مطلوب ہے۔

جواب

ازار میت کے متعلق فقہاء کے تین قول ہیں، ایک یہ کہ سر سے پیر تک ہو لفافہ کی طرح دوسرا قول یہ کہ منکب سے قدم تک ہو، تیسرا قول شیخ ابن ہمام نے فتح القدیر میں فرمایا ہے کہ سرہ سے رکبہ تک ہو اور اس کو حدیث سے اقرب قرار دیا ہے: فالازار واللفافة من القرن الى القدم والقرن هنا بمعنى الشعر واللفافة هي الرداء طولاً وفي بعض نسخ المختار ان الازار من المنكب الى القدم هذا ما ذكروه وبحث فيه…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو