فقیر تکیہ کی بیوی کو غسل میت پر مجبور کرنا
سوال
اگر کسی بستی میں میت کو غسل دینے والا فقیر بستی سے دور رہتا ہو اور وہ زنانہ غسل میں مجبور ہو جاوے کہ اس کے پاس اس کی پردہ نشین بیوی کے سوا کوئی نہ ہو تو کیا وہ پردہ نشین بیوی کو مجبوراً غسل دینے کیلئے لے جاسکتا ہے، جب کہ وہ خود رضامند نہ ہو۔
جواب
غسل دینا فرض کفایہ ہے اگر اور بھی غسل دے سکتے ہوں تو اس پر جبر جائز نہیں کہ غسل دینا مشکل کام نہیں کہ سب نے ایک کے سر رکھ دیا سب کو سیکھ لینا چاہئے لیکن اگر عورت موجود نہ ہو تو نامحرم غسل نہ دیں، بلکہ تیمیم کرادیں اور وہ بھی کپڑے کے ذریعہ سے اگر کوئی محرم مرد موجود ہو تو بلا کپڑے کے تیمیم کرادے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔