پیر کو حاجت روا سمجھنا
سوال
ایک پیر صاحب کے انتقال کے بعد انکے ایک مرید نے یہ الفاظ کہے ہیں، اے اللہ ہم دین ودنیا کی حاجت کس سے طلب کریں جس سے ہم روحانی اور جسمانی حاجتیں طلب کرتے تھے وہ دنیا سے کوچ کر گئے، یہ الفاظ اس کی زبان پر لانا کہاں تک درست ہے؟ ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب
اصالۃً حاجت روا خدائے وحدہ لاشریک لہ ہے، کسی اور کو حاجت روا سمجھنا تعلیمات اسلام کے خلاف ہے، اللہ پاک کے علاوہ پیر وغیرہ سے حاجت طلب کرنا جائز نہیں اس مرید نے اپنے پیر کے بارے میں جو مذکورہ الفاظ کہے ہیں، ان سے ایہام شرک ہوتا ہے، لیکن کسی مسلمان کے قول پر شرک وکفر کا حکم لگانا شریعت میں بہت بڑی ذمہ داری کی بات ہے، جب تک اس کے کلام کا صحیح محمل ذرا بھی نکل سکتا ہے (گویا تاویل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔