لڑکیوں کی تعلیم اور نامحرم کو حیض ونفاس کے مسائل بتانا
سوال
(۱) کوئی شخص اپنے محلہ کی غیر محرم عورتوں کو پردہ میں رکھ کر حیض و نفاس کا مسئلہ و نماز، روزہ، پاکی، ناپاکی کے بارے میں وعظ ونصیحت سنائے اور بتلائے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ (۲) قریب البلوغ لڑکیوں کو مکتب و مدرسہ میں پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو کیسا گناہ ہے؟ بدلیل شرعی مع حوالہ جات کتب تحریر فرمائیں۔
جواب
(۱) جائز ہے حضور اقدس ﷺ سے بکثرت ثابت ہے لیکن اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو پھر احتیاط چاہیے خاص کر حیض و نفاس کے مسائل اپنی محرم عورتوں کو سمجھا دے اور پھر وہ عورتیں دوسری عورتوں کو سمجھا دیں، جیسا کہ ازواج مطہرات سمجھایا کرتی تھیں یا مردوں کو سمجھا دے اور وہ اپنی عورتوں کو سمجھا دیں۔ غیر محرم عورتوں کے ساتھ خلوت ہرگز نہ کرے کہ یہ ممنوع ہے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔