الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

كتابت النساء

سوال

بہشتی زیور کے ایک حصہ پر بریلوی حضرات کو یہ اشکال تھا کہ خواتین کو لکھنا جائز نہیں ہے، ہاں علوم شرعیہ حاصل کرنے کی یقیناً اجازت ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ممانعت کی ایک حدیث انھوں نے بھی نقل کی ہے۔ علی گڑھ کے مفتی اعظم مولانا حافظ حفیظ اللہ صاحب قدس سرہ سے اس ناکارہ نے خود سنا کہ لڑکیوں کو لکھنا سکھانا شرعاً جائز نہیں ہے۔ حدیث پاک میں صریح اس کی ممانعت ہے۔

جواب

حدیث پاک میں ایک مقام پر عورت کو لکھنا سکھانے کی ممانعت آئی ہے اور ایک مقام پر ترغیب آئی ہے، اس لئے شراحِ حدیث نے لکھا ہے کہ جہاں فتنہ کا خطرہ ہو وہاں سکھانے سے اجتناب چاہیے، جہاں نہ ہو وہاں بقدر ضرورت گنجائش ہے کہ امور خانہ داری میں بعض مرتبہ اسکی حاجت پیش آجاتی ہے، جو لڑکیاں اپنے مکان میں والد، بھائی، چچا، دادا، نانا سے لکھنا سیکھیں اور انکی دینی تربیت کی جائے، ماحول صالح ہو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو