الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کی عملی صورت تفہیم کے لئے

سوال

ایک لڑکے نے سوال کیا نکاح کے متعلق آپ ہم لوگوں کو سمجھا دیجئے تب استاذ نے اس کو سمجھا دیا۔ لڑکے نے کہا ہم سمجھے نہیں آدمی جس طرح نکاح کرتا ہے اس طرح ہم کو سمجھا دیجئے تب استاذ صاحب نے مثال کے طور پر ایک لڑکے کو دولہا اور دوسرے کو دلہن بنایا ایک لڑکے کو وکیل اور دو گواہ بنا کر جس طرح آدمی شادی کرتا ہے اسی طرح لڑکوں کو سمجھا رہا تھا تب دوسرا ایک استاذ اس کی یہ حرکت دیکھ کر نکلا گالی گلوچ بھی دیا یعنی اس طرح جو اس نے اس طرح شادی کر کے مسئلہ بتایا کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا کہ نہیں دوسرے آدمی نے جو اس کو گالی دی اس کو…

جواب

استاذ کو اس کا تجزیہ کرا کر سمجھانے کی ضرورت نہیں بلکہ جواب میں کہہ دینا چاہئے بڑے ہو کر جب نکاح کا وقت آئے گا یہ سب سمجھ لو گے گالی دینا منع ہے۔ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقَ الحديث

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو