الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سرکاری روپیہ سے حج

سوال

حکومت ہند موسم حج میں حاجیوں کی دیکھ بھال کے لئے ویل فیر آفیسر بنا کر کسی کو منتخب کر کے اس کے تمام مصارف برداشت کرتی ہے، اور اس کے لئے بقدر ضرورت تمام رقم پیشگی دیدیتی ہے، وہ منتخب آفیسر اپنے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ حج بیت اللہ بھی ادا کر لیتے ہیں، اس کا یہ حج کیسا ہوگا، اس کا وہ حج فرضیت حج میں شمار ہوگا نفل؟ کیا حکومت نے جب رقم دی اس وقت وہ صاحب نصاب شمار نہیں ہو گا؟

جواب

جب کوئی شخص خود صاحب نصاب نہیں جس سے اس پر حج فرض ہو یعنی زاد راہ پر قادر نہیں مگر وہ پیدل پہنچ جائے یا کوئی شخص اس کو اپنے ساتھ لے جائے، یا کسی نے اس کو روپیہ دے دیا جس سے وہ وہاں پہنچ گیا اور حج ادا کر لیا، تو اس کا حج ادا ہو جائیگا، پھر غنی ہو جانے پر اس کے ذمہ دوبارہ حج فرض نہیں ہو گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو