جس کے پاس حرام آمدنی ہو وہ یہ کہے کہ یہ روپیہ میں نے قرض لیا ہے یا حلال آمدنی ہے تو اسکا قول معتبر ہے
سوال
اگر شخص مذکور یہ کہتا ہے کہ وہ حج حلال کمائی سے کر رہا ہے، حرام کی کمائی سے کوئی تعلق نہیں ہے، تو کیا اس کی اس بات کو قبول کیا جاسکتا ہے؟ اور پھر اس کو گروپ میں شامل کیا جا سکتا ہے؟
جواب
اگر اس کے پاس حلال آمدنی کا ذریعہ بھی ہے یا وہ کہتا ہے کہ یہ روپیہ قرض لیا ہے تو اس کا قول صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔