الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جائز ونا جائز مخلوط مال سے حج

سوال

ایک شخص نے ارادہ حج بیت اللہ شریف کے لئے پونجی جمع کی جو اس وقت حج کے لئے کافی معلوم ہوتی ہے، لیکن اس نے چند ایک کتب دینیات مطالعہ کیں جس سے اس نے اپنی غلطیاں محسوس کیں اور اس کو شک ہے کہ ایسی پونجی سے حج بیت اللہ شریف شاید واجب نہ ہو لہذا معلوم ہو کہ پونجی جمع شدہ ایسی رقوم سے ہے: (۱)

جواب

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جو مال ناجائز طریقہ سے جمع کیا ہے اس کو منہا کرنے کے بعد اگر حج کیلئے کافی ہو تو حج فرض ہوگا، ورنہ حج فرض نہ ہوگا، اور جو مال حرام جمع کیا ہے،اس کے اصل مالک کو اگر وہ مر چکا ہے، تو اس کے ورثہ کو واپس کرنا ضروری ہے، اگر نہ ما لک موجود ہو نہ اس کے ورثہ موجود ہوں توبہ نیت گلو خلاصی اس کا صدقہ کرنا ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو