غبن کے روپئے سے حج اور کاروبار
سوال
زید دو سال قبل ملازم تھا، ملازمت خود ہی سے چھوڑ کر دوسال ہوگئے ہیں، زید کی ملازمت سات سال رہی: (۱) زید سے دوران ملازمت غبن ہوا (خرد برد) غبن میں زید اکیلا نہیں تھا، بلکہ کارخانہ کے اور لوگ بھی شریک تھے، دوران ملازمت زید نے غبن کا روپیہ جمع کر کے ایک دوکان کھولی ہے، دوکان تین سال تک زید کے بھائی کے دو بھائی اور حضرت والا چلا رہے ہیں، اب زید خود بیٹھ کر کاروبار چلا رہا ہے، اللہ کے فضل وکرم سے دوکان اچھی چل رہی ہے، ہر سال زکوۃ بھی ادا کرتا ہے، اب کچھ روپیہ جمع ہو گیا ہے، اور وہ حج کو جانا چاہتا ہے، حج کو جاسکتا ہے یا…
جواب
حق العبد مقدم ہے پہلے اس کو ادا کرنا چاہئے تاہم اگر روپیہ قرض لے کر حج کرے تو یہ زیادہ اچھا ہے اس لئے کہ جائز روپیہ لے کر جائے جتنا روپیہ غبن تھا اس کو واپس کرنا لازم ہے، اب اس کو اپنے اوپر مشتبہ قرض تصور کر لیا جائے، اور وہ روپیہ جہاں سے لیا ہے وہیں واپس کر دے، دینی اداروں میں دینا کافی نہیں یکدم نہیں کرسکتا تو آہستہ آہستہ دے،مگر پورے روپیہ کی واپسی لازم ہے، کارخانہ والوں سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔