ناجائز آمدنی سے حج کرنا
سوال
ہندہ کے پاس صرف ایک پختہ عمارت جس کی قیمت تقریباً ۱۶/ ہزار روپیہ ہے، حلال اور حرام پیسے سے عمارت کی تعمیر ہوئی ہے، یعنی رشوت اور غیر رشوت کے پیسے سے رشوت کا روپیہ ۳ گنا لگا ہے، صورت نمبر ۱/ میں ہندہ غیر کفو کے ساتھ حج کے لئے جاسکتی ہے یا نہیں؟ صورت نمبر ۲ /۔ میں عمارت مذکور بیچ کر حج کر سکتی ہے یا نہیں حوالہ حدیث مع كتب مدلل تحریر فرما دیں، بینوا وتوجروا؟
جواب
(۲) ہندہ کو چاہئے کہ کسی سے قرض لیکر اسی سے حج کرلے (کسی محرم کے ساتھ) پھر عمارت مذکورہ کی قیمت سے وہ قرض ادا کر دے تاکہ حج بلا شبہ حلال مال سے ادا ہو، لیکن عمارت مذکورہ کی قیمت بلکہ خالص حرام مال سے بھی اگر حج ادا کیا تو فریضہ ساقط ہو جائیگا اور حرام مال اس میں خرچ کرنے کا گناہ بھی ہو گا ” قال فی البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال فانه لايقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث مع…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔