الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

توبہ کی تکمیل کیلئے تصدق

سوال

ایک زانی زانیہ نے توبہ کی بستی والوں نے جرمانہ لگایا کہ تم گذشتہ گناہوں کی پاداش میں صدقہ نکالو تا کہ گناہوں کا کفارہ ہو جائے، چنانچہ اس نے برائے تصدق لازم روپے نکالے، اب عرض یہ ہے کہ اہل قریہ کے کہنے سننے سے اگر اپنے اوپر تصدق لازم کرلے، اپنی خوشی سے تو کیا حکم ہے؟ اور محض لوگوں کے کہنے سننے سے تصدق لازم کرلے تو کیا حکم ہے؟

جواب

لوگوں کے مجبور کرنے کی صورت میں تصدق ناجائز ہے، اپنی خوشی کی صورت میں جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو