الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شطرنج کی ممانعت پر دلیل

سوال

شطرنج کھیلنا مکروہ ہے یا حرام ہے، نیز اس کی ممانعت جن الفاظ کے ساتھ حدیث پاک میں آئی ہے، وہ تحریر فرما دیں؟

جواب

شطرنج اگر قمار وغیرہ نہ ہو تو مکروہ ہے کذافی البحر الشطرنج کے متعلق صراحہ کوئی حدیث صحاح میں دیکھنا محفوظ نہیں، البتہ ابن حجر مکی نے الزواجر میں بعض روایت کی ہیں، ابوداؤد شریف میں نردشیر کی ممانعت ان الفاظ کے ساتھ ہے ”من لعب بالنرد شير فقد عصى الله ورسوله“ (ابوداؤد شریف، ج ۲ ص ۶۷۵ / باب النهي عن اللعب عن النرد)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو