عبدالرحیم کو رحیم کہہ کر پکارنا
سوال
ہمارے اطراف میں جن لوگوں کا نام عبدالرحیم،عبدالقدوس وغیرہ ہے، ان کو اے رحیم، اے قدوس کہہ کر پکارتے ہیں، زید کہتا ہے کہ اس طرح بلانا گناہ ہے، کیونکہ شرع فقہ اکبر میں،ص ۲۳۸ میں ہے ”من قال لمخلوق يا قدوس الخ“ جس سے عدم جواز مفہوم ہوتا ہے، تو زید کا یہ سمجھنا صحیح ہے یا غلط؟ اگر صحیح ہے تو عامہ اس سے بچاؤ مشکل ہے لہٰذا کیا صورت اختیار کی جائے؟
جواب
کسی کی تعظیم کرتے ہوئے اللہ پاک کا نام بولنا اس کو اللہ کے درجہ میں تسلیم کرنا ہے جو کہ کفر ہے، لیکن معنی لغوی کی رعایت سے کوئی لفظ بولنا جس میں خدائے پاک کے نام کی شرکت مقصود نہ ہو کفر نہیں، صورت مسئولہ میں معنی کی طرف دھیان نہیں ہوتا، بلکہ علم (نام) میں اختصار کیا جاتا ہے،” ومن قال لمخلوق يا قدوس او القيوم او الرحمن او قال اسماً من اسماء الله الخالق كفر انتهى.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔