جسمانی امراض کے لئے نام بدلنا
سوال
کوئی مرد یا عورت اگر بیمار ہو جائے تو پیر صاحب کہتے ہیں کہ اس بیمار کا جو نام رکھا ہے وہ بہت بُرا ہے اس کا نام بدلنے سے ٹھیک ہو جائے گا۔ جاہل لوگ تسلیم کر کے اس کا نام بدل دیتے ہیں اس کا کہیں ثبوت ہے یا شرک ہے؟
جواب
جو نام خلاف شرع ہو اس کو بدل دینا حدیث شریف سے ثابت ہے۔ شریعت کے موافق جو نام ہو اس کو جسمانی امراض کے علاج کے لئے بدلنا ثابت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔