مال حرام کی خرید و فروخت
سوال
سود کا مال اگر کوئی شخص خریدے تو وہ حلال ہو جاتا ہے یا باوجود خرید لینے کے بھی وہ حرام ہی رہتا ہے مفصل لکھئے؟
جواب
اگر وہ مال کسی شخص کے پاس خالص حرام طریقہ سے آیا ہوا ہو اس کا خریدنا جائز نہیں، کیونکہ اس کا اصل مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، الحرام ينتقل فلو دخل بامان واخذ مال حربي بلارضاه واخرجه الينا ملكه وصح بيعه لكن لا يطيب له ولا للمشترى منه در مختار قال الشامى قوله الحرام ينتقل اى تنتقل حرمته وان تداولته الايدى وتبدلت الاملاك ويأتي قريباً قوله ولا للمشترى منه فيكون بشرائه منه مسيئاً…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔