الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حرام مال سے کوئی چیز خریدنا

سوال

ایک شخص کے پاس مال حرام ہے، جو اس کو کسی حلال شے کے فروخت کرنے پر مشتری سے ملا ہے، اب اگر شخص ایک گھوڑا خرید کرے اور ایک ہفتہ کا اُدھار کر کے گھوڑے کو اپنے گھر لے آئے اور مال حرام ایک ہفتہ بعد دے تو گھوڑا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

حلال شئی کو مال حرام کے عوض میں فروخت کرنا جائز نہیں، لقوله تعالى ولا تتبدلوا الخبيث بالطیب، لیکن اگر کسی کے پاس اس طرح مال حرام آجائے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، یا اسکے مثل کسی اور طرح آجائے تو اسکو اُدھار یا قرض میں کسی غیر مسلم کو دینا درست ہے، لہذا اس گھوڑے کو حرام نہیں کہا جائیگا۔ کذافی عالمگیریہ ص ۲۲۱ ج ۲۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو