الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ڈاکٹری اور مدرسی کی کمائی

سوال

زید اور عمر دونوں ایک ایسی بستی میں رہتے ہیں جہاں کچھ دن قبل سود کا نام نہیں تھا، لیکن اب سود کا لین دین عام ہو گیا ہے، زید مدرسہ اسلامیہ میں مدرس ہیں کہ جس مدرسہ کی آمدنی ان ہی لوگوں سے اور ان کے سودی کاروبار سے ہی ہوتی ہے، اس کے علاوہ اور ذریعہ آمدنی مدرسہ کی نہیں ہے، اور عمر پوسٹ آفس میں نوکری کے ساتھ حکمت اور ڈاکٹری بھی کرتا ہے، مگر دونوں دوسرے گاؤں کے رہنے والے ہیں، اب ان دونوں میں سے کس کی آمدنی حلال ہے اور کس کی حرام، کس کو اس گاؤں میں رہنا چاہئے اور کس کو نہیں؟

جواب

جو شخص حکیم ڈاکٹر ہے اور وہ اپنی دوا کی قیمت سے اپنا گزارہ کرتا ہے، اس کے متعلق کھوج کرید کرنے کی ضرورت نہیں، اس کی آمدنی کو بلا وجہ شرعی حرام کہنے کا حق نہیں، جو شخص مدرسہ سے تنخواہ لیتا ہے اور مدرسہ میں ہر قسم کا چندہ آتا ہے، کچھ جائز ہوتا، کچھ نا جائز تو اس کی پوری تنخواہ کو بھی ناجائز کہنے کا حق نہیں، البتہ متعین طور پر جس کے پاس بھی نا جائز آمدنی آئے خواہ سود کی ہو، کسی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو