بڑوں کے پیر پکڑ کر دعائیں لینا
سوال
زید اپنے بچوں سے کہتا ہے کہ ماں، دادا، دادی وغیرہ کے پیر پکڑ کر ان سے دعائیں لو۔ اس لئے کہ وہ نیک اور بزرگ ہستیاں ہیں، مثلاً عید وغیرہ کے موقع پر یا سفر میں آنے جانے کے وقت تو یہ پیر پکڑنا کیا جائز ہے؟
جواب
تبركاً وتعظیماً کسی بزرگ کے پیر کو بوسہ دینے کی اجازت ہے جبکہ سجدہ کی ہیئت پیدا نہ ہو اور عقیدہ بھی خراب نہ ہو، پیر پکڑنا جس کو پیر لاگن بھی کہتے ہیں یعنی صرف پیروں کو چھو لینا یہ برہمنوں کے یہاں تعظیم کا رواج اور انکا شعار ہے، اس سے پرہیز لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔