صدر جمہوریہ کا استقبال
سوال
کئی سال کی بات ہے کہ دارالعلوم دیو بند میں صدر جمہوریہ کی آمد پر پولیس کی طرف سے دو چیزیں پیش کئی گئی تھیں، ایک بینڈ باجہ بجوایا جائے، دوسرے راشٹریہ گیت جن من گن پڑھوایا جائے لیکن بینڈ باجہ کی پابندی کو علماء نے قبول نہیں کیا، البتہ راشٹریہ گیت کے ابتدائی اشعار پڑھوائے گئے، صدر جمہوریہ کے ساتھ علماء اور دارالعلوم کے لڑکے کھڑے ہونگے، کونسی دلیل کی بنا پر ایسا کیا گیا، کیونکہ ہم کو بھی ایسے مواقع پیش آتے ہیں، اس وقت ہم کیا کریں، کیا راشٹریہ گیت میں کفر کے الفاظ نہیں ہیں، اور اسمیں کراہت کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں؟
جواب
کسی کی خاطر کفر کے شعار کو اختیار کرنا جائز نہیں، حرام چیز کرنا جائز نہیں کہ مہمان کے ساتھ اس کی حیثیت کے مطابق معاملہ کرنا پسندیدہ ہے، جب تک کسی خلاف شرع چیز کا ارتکاب نہ ہو، مجھے نہ ان اشعار کا علم ہے، نہ اس وقت کے کوائف کی تفصیل کا علم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔