بیوی کو بے پردگی پر مجبور کرنا
سوال
زید نے اپنی لڑکی صفیہ کا عقد عمر کے بیٹے ظفر کے ساتھ اس شرط پر کیا کہ اس کی لڑکی پردہ میں رہے گی، اور ارکان شرع کی پابند رہے گی، ظفر نے دوسال کے بعد اپنی بیوی کو بے پردہ رکھنا شروع کیا، نیز جب وہ قرآن شریف کی تلاوت کرتی ہے، تو اسے جواب دیا جاتا ہے، کہ کیا رام کہانی شروع کر رکھی ہے، زید کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو وہ اپنی بچی کو گھر لے آیا، ظفر کا اصرار ہے کہ وہ اپنی بیوی کو لیجائے گا زید کا کہنا ہے کہ تم نے شرط پوری نہیں کی، اس لئے اب میں رخصت نہ کرونگا، ایسی صورت میں شرعی نقطۂ نگاہ سے کیا کرنا چاہئے؟
جواب
زید کو چاہئے کہ وہ ظفر سے پختہ عہد کرلے اور چند معزز آدمیوں کے سامنے تحریر کرالے کہ ظفر اب آئندہ اپنی بیوی کو پردہ کے ساتھ رکھے گا، بے پردگی پر مجبور نہ کرے گا، نیز احکام شرع کی پابندی کرے گا، اور اگر اس پر اطمینان نہ ہو تو زوجہ کو چاہئے کہ حاکم مسلم با اختیار کی عدالت میں مقدمہ پیش کرے، کہ ظفر میرا شوہر ہے مجھے بے پردہ رکھتا ہے، اور احکام شرعی کی بجا آوری میں مخل ہوتا ہے، اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔