چہرہ کا پردہ
سوال
خالدہ ادیب خانم نے جو ایک مشہور ترکی خاتون ہیں، ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش کے عنوان پر اپنے ساتویں خطبہ میں یہ بات صاف طور پر ظاہر کی ہے کہ: کلام الہی کے اعتبار سے عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے سر، سینے اور زینت کو چھپاویں، چہروں کے چھپانے کا کہیں ذکر نہیں ہے، اور نہ عورتوں سے کہا گیا کہ وہ گھر میں بیٹھی رہیں، اور خدمت عامہ انجام نہ دیں، علاوہ ازیں اسی خطبہ میں آگے چل کر یہ الفاظ موجود ہیں، کہ اگر اس پردہ کو مسلمان قائم رکھنا چاہتے ہیں انہیں اختیار ہے مگر وہ یہ بات ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ اس کی بناء مذہب کے…
جواب
سر، سینہ، زینت اور تمام بدن کے چھپانے کا حکم تسلیم کرنے کے بعد چہروں کے چھپانے کے حکم میں تامل کرنا بہت ہی حیرت انگیز ہے،غور کا مقام ہے،” قل للمومنین يغضوا من ابصارهم“، کا حکم کس لئے ہے؟ اگر اس سے چہروں کا پردہ مقصود نہیں تو کیا ہے ” ياايها النبي قل لازواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن“ (الایة) کا کیا مطلب ہے؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔