الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نامحرم کی آواز کا جواب

سوال

(۱) زید کی بیوی نے اگر کسی نامحرم کے آواز دینے پر جبکہ گھر میں کوئی بچہ یا بڑا اس کو جواب دینے کے لئے موجود نہ ہو اس کو جواب دیدیا تو کیا زید اگر کبھی نماز پڑھائے اس کے پیچھے نماز ہو گی صرف اسکی بیوی کے جواب دینے پر زید مستقل امام نہیں ہے؟ (۲) جبکہ کوئی دوسرا شخص موجود نہ ہو تو نامحرم کو جواب دے سکتے ہیں کہ نہیں؟

جواب

(۱) اتنی بات کی وجہ سے زید کی امامت میں خرابی نہیں آئے گی۔ (۲) ضرورت کے درجہ میں اگر ایسا جواب دیا جائے جس سے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی اجازت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو