دعوت کے لئے پیسے کی شرط
سوال
بعض جگہ ایسا رواج ہے کہ مولویوں اور طلبہ کو دعوت کھلانے کے بعد پیسہ دیا جاتا ہے، کیا پیسہ لینا دعوت کھا کر شرعاً جائز ہے، نیز پیسہ نہ دینے پر دعوت قبول نہ کرنا ان لوگوں کے متعلق شریعت میں کسی قسم کی مذمت آئی ہے یا نہیں، بصورت عدم جواز آخذ کے لئے یہ پیسہ اپنے کام میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس قسم کا اور اگر ناجائز ہے تو کس درجہ کا اور دینے کا کیا حکم ہے ثواب کا مستحق ہوگا یا نہیں، ہر مسئلہ مندرجہ بالا کو مع دلائل عقلیہ نقلیہ و حوالہ کتب کے تحریر فرمائیں؟
جواب
اگر ایصال ثواب جس طرح کھانا کھلا کر کرتے ہیں اسی طرح پیسے دیکر بھی کرتے ہیں، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، مستحق کو جس طرح کھانا درست ہے، اسی طرح سے پیسے لینا بھی درست ہے، اور اگر وہ کھانا اس شرط پر کھاتا ہے کہ اگر پیسے بھی مجھے ہی دو تو میں کھانا کھاتا ہوں ورنہ میں نہیں کھاتا، تو اس میں کوئی جبر اور تلازم نہیں، دینے والے کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے کھانا کھلائے، جس کو چاہے پیسے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔