رضا خانیوں کے ساتھ معاملہ
سوال
یہاں پر جو اپنے کو سنی کہتے ہیں وہ لوگ پیروں کے مزار پر جا کر پوجا پاٹ کرتے ہیں، اور علماء حق کو گالی دیتے ہیں، مولانا قاسم صاحب، مولانا مدنی، مولانا تھانوی کو گالیاں دیتے ہیں، اور بہشتی زیور کو غلط بتاتے ہیں، ایسے موقع پر اگر کسی کو غیر معمولی جوش آ جائے، اس قسم کی بد تہذیبی اور توہین کرنے والے کو قتل کر دے اور خود بھی اس کے ہاتھ سے مر جائے، یا پھانسی آجائے تو شہادت ہوگی کہ نہیں؟
جواب
قتل کرنا اور سزا میں پھانسی چڑھ جانا اصل علاج نہیں ہے، ان کو صحیح راہ دکھلانا حسن تدبیر سے، بزرگوں سے ان کی ملاقات کرائی جائے ان کے صحیح حالات بتائے جائیں، ان کی دینی خدمات دکھلائی جائیں، اور اللہ تعالیٰ سے دعاء بھی کی جائے، کہ وہی مقلب القلوب ہے، کوئی ایسا اقدام کہ جس سے آدمی خود بھی فتنہ میں مبتلا ہو اور اس سے دوسری جگہ بھی فتنہ پیدا ہو ہرگز نہ کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔