ضامن پر قسم کا حکم
سوال
اگر ایک مسلمان ہاتھ میں قرآن لیکر یہ اعلان صاف کرتا ہے کہ فلاں شخص نے حلفی ضمانت فلاں بات کی لی تھی، اور ضامن صاحب اپنا وعدہ پورا کریں یا ضامن صاحب قرآن ہاتھ میں لیکر ان سب باتوں سے صاف انکار کر دیں تو اس صورت میں ضمانت درست سمجھی جائے گی، یا جھوٹی؟ اور اگر درست سمجھی جائے گی تو حق تلفی کا خسارہ ضامن کو ادا کرنا لازم ہے، یا نہیں؟
جواب
قسم مدعی پر نہیں بلکہ منکر پر آتی ہے، لہذا جو صاحب ضمانت کا وعدہ کرتے ہیں، ان کے ذمہ قسم نہیں، ان کا قسم کھانا بے معنی اور غلط ہے، جس پر ضمانت کا دعوی کیا جا رہا ہے، اگر وہ ضمانت کے منکر ہیں تو قسم کھا کر کہدیں کہ میں نے ضمانت نہیں کی، ان کا قول معتبر ہوگا، اگر ان کو ضمانت کرنا یاد نہیں تو یہی قسم کھا لیں کہ مجھ کو ضمانت کرنا یاد نہیں تو بھی ان کی قسم معتبر ہوگی، کوئی پردہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔