الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ايضاً

سوال

ایک شخص نے اپنا مال خود کرایہ پر دے کر اس کے ہاتھ منگوایا، اگر لانے والے سے روپیہ تلف ہو جاتا یا مال ٹوٹ جاتا ہے، تو اس کی ذمہ داری اس پر نہیں تھی، بہر حال وہ مال لے آیا اور اس نے میرے قبضہ میں دیدیا، اس کے بعد میں نے وہ مال نفع لگا کر اس کے ہاتھ فروخت کر دیا، تو یہ نفع جائز ہے یا نہیں؟

جواب

یہ صورت جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو