ايضاً
سوال
والد، بہن، بھائی اور دوسرے رشتہ دار اگر روپیہ دیکر کوئی چیز خریدنے کو کہتے ہیں، تو میں دوکان سے خرید کر اس پر اپنا نفع رکھ کر دے سکتی ہوں، کیا ایسی تجارت درست ہے، جبکہ میری کوئی علیحدہ دوکان نہیں ہے، والدہ سے ایسی تجارت کی جاسکتی ہے، کیا اور رشتہ کے لئے گنجائش ہے، ایسے تجارتی مال پر زکوۃ کس باب اور کس طرح نکالنی چاہئے، جبکہ یہ تجارت وقتی طور پر کرتی ہوں، ان کی رقم سے مال خریدنا یا اپنی رقم سے خرید کر اس پر نفع رکھنا کونسا طریقہ بہتر اور جائز ہے؟
جواب
جب آپ کو کسی نے وکیل بنایا کہ میرے لئے اتنے روپئے کی فلاں چیز خرید دیں اور آپ انکے روپئے سے ان کے لئے خریدیں تو اس پر آپ کے لئے نفع لینا جائز نہیں ہے والدین، بھائی، بہن، اغیار سب کیلئے یہی مسئلہ ہے، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے روپیہ سے اپنے لئے سامان خریدیں پھر جب کوئی آپ سے اس سامان کی خریداری کیلئے کہے تو آپ کہدیں یہ سامان میرے پاس بھی موجود ہے مجھ سے خرید لیا جائے، اس پر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔