الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بيع مرابحہ

سوال

میں دوکانداروں کو اُدھار مال فروخت کرتا ہوں، وہ مجھے پہلے آڈر دیتے ہیں، یہ بھی طے کر لیا کہ کانپور والا مال جس کی خریداری ایک روپیہ کی ہوگی، وہ ۷ ارآنے میں فروخت ہوگا، اور دہلی کا ایک روپیہ کا مال ۲۵ ار میں فروخت ہوگا، بشرطیکہ مال صحیح سالم ہو اور تاجر کی مرضی کے موافق ہو تو اس طرح نفع لینا درست ہے یا نہیں؟

جواب

اس طرح فروخت کرنا درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو