مصافحه بعد العيدين
سوال
یہاں گذشتہ سال ایک اشتہار اور امسال ایک رسالہ شائع ہوا ہے، جس میں بعد عیدین مصافحہ ومعانقہ کا مسنون ہونا ظاہر کیا گیا ہے، اس جواب میں ایک صاحب نے رد تحفہ کے نام سے ایک مضمون لکھا ہے جو جناب کی خدمت میں ارسال ہے، جناب اس کو ملاحظہ فرما کر اصلاح فرماویں، اور اس سلسلہ میں اگر مزید اقوال علماء وكتب معتبرہ سے معلوم ہو سکیں ان کو مع نشان صفحه وجلد تحریر فرما کر ممنون فرمادیں؟
جواب
ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ شروع باب المصافحہ والمعانقہ میں، شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اشعۃ اللمعات میں، مجالس الابرار، ص ۳۱۷ میں فتاوی رشیدیہ، ص ۱۵/ ج ۱ امدادالفتاوی،ص۵۸رج۴رے فتاوی ابن حجر مکی کے ص۴۵،۴۶رج۴رمیں، فتاوی دار العلوم میں، ص ۱۴۴ ر پر اس تخصیص کو بدعت قرار دے کر اس سے منع کیا ہے، حافظ بن حجر نے علامہ نووی کا کلام نقل کر کے لکھا ہے” قلت وللنظر فيه مجال فان اصل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔