الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مصافحه بعد الفجر والعصر

سوال

زید کہتا ہے کہ فجر کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا جائز نہیں ہے، اور صحاح ستہ سے اور امام ابو حنیفہ کے قول وعمل سے ثابت نہیں، زید یہ بھی کہتا ہے کہ حضور پرنور ﷺ اور جمہور علماء کا بھی یہ عمل نہیں رہا ہے، اور نہ انکے عمل سے ثابت ہے، ایسا ہی عصر کی نماز کے بعد بھی کہتا ہے جائز نہیں، عمر کہتا ہے کہ دونوں وقتوں میں مصافحہ کرنا جائز ولازمی ہے، اس کا ثبوت عمر یہ دیتا ہے کہ فجر وعصر کے بعد سنتیں نفلیں نہیں ہیں، اس لئے مصافحہ کرنا دونوں وقتوں کی نمازوں کے بعد لازمی وضروری ہے، زید کہتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں نے مذکورہ…

جواب

مصافحہ کی ترغیب اور فضیلت احادیث میں موجود ہے اس لحاظ سے یہ اسلامی کام ہے، اس کو اسلام ہی کی ہدایت کے مطابق انجام دینا چاہئے، شریعت نے اس کا وقت ابتداء ملاقات کے وقت تجویز کیا ہے، کسی نماز کے بعد کا وقت اس کے لئے تجویز نہیں کیا، پس نماز کے بعد اس کا وقت تجویز کر لینا خواہ اعتقاداً ہو یا عملاً ہی ہو یا اس وقت مصافحہ کے لئے کوئی مخصوص فضیلت تصور کرنا بلا دلیل ہے، اور ایک مطلق کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو