شہدائے کربلا کے لئے فاتحہ
سوال
ہمارے گاؤں میں ایک صاحب ہر سال تعزیہ نکالتے تھے، اب انہوں نے یہ سلسلہ بند کر دیا ہے، اب وہ شہدائے کربلا کے لئے فاتحہ کرتے ہیں، اور مساکین کو کھانا اور کپڑا تقسیم کرتے ہیں، کیا اس میں کوئی حرج ہے؟
جواب
تعزیہ کا بند کر دینا تو بہت ضروری تھا، سو بند کر دیا ”فالحمد لله على ذلك“ شہدائے کربلا یا دیگر اکابر واقرباء کیلئے ایصال ثواب کرنا بغیر کسی ثابت شدہ پابندی وتقیید کے درست اور باعث اجر ہے، مگر اس قسم کے امور جہاں تک ہو سکے مخفی طور پر کئے جائیں، جن میں شہرت اور نمود نہ ہو، اگر ناموری کیلئے کئے جائیں گے تو اجر ضائع ہو جائے گا، ریا کاری کا وبال مستقل ہوگا، جو کہ سخت ترین معصیت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔