بعد نماز جمعہ مروجہ صلوۃ وسلام
سوال
جامع مسجد خانپور میں دو چار ہفتہ سے بعد نماز جمعہ سلام شروع کر دیتے ہیں، جس کی کوئی سند نہ قرآن وسنت سے ملتی ہے، نہ صحابہ اور تابعین سے، سلام وہی مروجہ طریقہ پر با ادب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو کر بآواز بلند یہ لوگ”یا شفيع الورى سلام علیک یانبی الهدى سلام علیک“ اسی طرح پڑھتے ہیں یا مساجد میں اسی طرح سلام پڑھیں جبکہ لوگ سنتیں ونوافل ادا کر رہے ہوں، شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ وسلام پڑھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، اور بڑی سعادت وخوش نصیبی ہے اور صلوٰۃ وسلام نہ پڑھنا بڑی محرومی اور بدنصیبی ہے کہ سلف صالحین نے ہمیشہ صلوۃ وسلام کو اپنے معمولات میں رکھا ہے، اور رکھتے ہیں، مگر اس کیلئے کوئی ایسی صورت از خود تجویز کرنا جس کا ثبوت شرعی دلائل سے نہ ہو اور اس سے دوسروں کی نماز میں خلل بھی ہوتا ہو اور پھر اس کو ضروری…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔