الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کفریہ عقائد واعمال

سوال

ہمارے رشتہ دار یعنی خاص میرے خسر ساس کافروں اور مشرکوں کی رسم کرتے ہیں، یہ تیوہار کرتے ہیں۔ دوج، تیج، اھم، نومی، ہولی، دیوالی وغیرہ ان کو بھی پوجتے ہیں، بھوائی سیلہ اور ماموں علی بخش گنگوالا یہ ان کے خدا ہیں، اور کافروں کی طرح خدا کو گالیاں دیتے ہیں، رسول کو وہ جانتے بھی نہیں، اور جو کوستے ہیں اپنے بچوں کو یا کسی کو یوں کہتے ہیں: کہ تیرے ماں میں دیوی بڑ جا، تجھے دیوی توڑے، اور جو ان کے یہاں بیمار ہو جاتا ہے، تو جنگل میں شکرانی صنہک دے کر آتے ہیں، بیمار اچھا ہونے کے واسطے، ایسے شخص کا شرعاً کیا حکم ہے، اس سے میل…

جواب

ایسے لوگوں کو اول نرمی سے سمجھانا چاہئے کہ یہ عقائد اسلام کے خلاف ہیں، ان عقائد سے آدمی مسلمان نہیں رہتا، بلکہ مشرک اور کافر ہو جاتا ہے، اور جس طرح بھی ممکن ہو ان عقائد کی برائی اور خرابی کو انکے دل میں بٹھائے، اور انکو صحیح عقائد کی تعلیم دیکر مسلمان بنائے، اگر توقع نہ ہو کہ وہ ان عقائد کو چھوڑ کر اسلامی عقائد اختیار کریں گے، اور اپنے عقائد کی خرابی کا اندیشہ ہو تو ان سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو