الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بت کے نام پر چھوڑے ہوئے سانڈ کا حکم

سوال

ایک ہندو نے بتوں کے نام پر ایک سانڈ چھوڑا اور کئی سال گزرنے کے بعد مالک نے ایک برہمن کو بلا کر اس سانڈ کو اس کے حوالہ کر کے اس کو مالک بنا دیا، برہمن نے اس کو ایک مسلمان کے ہاتھ فروخت کر دیا، مسلمان نے اس کو شرعی طریق سے ذبح کیا اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ذبح کرنے کے بعد اس کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

عامہ مفسرین نے ما اهل به لغیر اللہ کی تفسیر ذبح للاصنام فذكر عليه غير اسم الله اھ (مدارک) کی ہے لہٰذا اس تفسیر کے موافق سانڈ جو کہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیا گیا تھا، اور اسکے بعد مالک نے وہ کسی کو دے دیا خواہ وہ ہبہ ہو خواہ قیمہ اور پھر شرعی طریق پر اس کو ذبح کرایا گیا ہو تو وہ شرعاً حرام نہ ہوگا، کیونکہ وہ بت کے نام پر ذبح نہیں کیا گیا لیکن بعض محققین نے ما اهل به لغير اللہ کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو