الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بن بیوی، خدا برکت پانچ پیر مزار پر نذرانے

سوال

مسلمانوں میں سے ایک جماعت نے بن بیوی، خدا برکت اور پانچ پیر وغیرہ کے نام سے درگاہ بنوا کر وہاں دودھ وغیرہ نذرانہ دیتے ہیں، اور ان سے اپنی حاجت مانگتے ہیں، تو اب دریافت کرنا یہ ہے کہ کوئی مسلمان اگر یہ سب فعل کرے تو شریعت کی رو سے اس کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو وہ مسلمان ہے یا نہیں؟ اس شخص پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور اس قسم کے لوگوں کے ساتھ ہم اہل سنت مسلمانوں کو کیا برتاؤ کرنا چاہئے؟ کوئی مسلمان اگر اسے برا جان کر درگاہ کو توڑ ڈالے تو اس کے لئے کوئی گناہ تو نہیں؟

جواب

یہ طریقہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، شرعاً ہرگز اس کی اجازت نہیں، یہ مشرکین کا طریقہ ہے، جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو نرمی سے فہمائش کی جائے، کہ ایسا کرنے سے ایمان کا سلامت رہنا دشوار ہے، وہ اگر باز نہ آئیں تو ان سے قطع تعلق کرنے میں اہل سنت والجماعۃ حق بجانب ہونگے کوئی مسلمان اگر ایسی جگہ توڑ دے جہاں مشرکانہ کام کئے جاتے ہیں تو وہ شرعاً مجرم نہیں ہے اس پر اگر فتنہ برپا ہو یا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو